کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 198
والوں پر لعنت فرمائی ہے ‘عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،وہ فرماتے ہیں: ((لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زائرات القبور والمتخذین علیھا المساجد والسرج)) [1] اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پراور ان پر مساجد بنانے اور چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک تک پہنچنے کے تمام دروازوں کو بند کر دیاہے،[2] ارشاد ہے: (( لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا إلیھا)) [3]
[1] نسائی،کتاب الجنائز،باب التغلیظ في اتخاذ السرج علی القبور،۴/۹۴،وابو داؤد،کتاب الجنائز،باب في زیارۃ النساء القبور،۳/۲۱۸،و ترمذي،کتاب الصلاۃ،باب کراھیۃ أن یتخذ علی القبر مسجداً،۲/۱۳۶،وابن ماجہ في الجنائز،باب النھي عن زیارۃ النساء للقبور،۱/۵۰۲،و احمد،۱/۲۲۹،۲۸۷،۳۲۴،۲/۳۳۷،۳/۴۴۲،۴۴۳،وحاکم،۱/۳۷۴،نیز حدیث کی تصحیح کے سلسلہ میں صاحب فتح المجید نے امام ابن تیمیہ سے جوبات نقل فرمائی ہے اسے ملاحظہ فرمائیں،ص:۲۷۶۔ [2] دیکھئے: فتح المجید،ص:۲۸۱۔ [3] مسلم،کتاب الجنائز،باب النھي عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ،۲/۶۶۸۔