کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 197
سنو! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے،خبر دار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا،میں تمہیں اس سے منع کر رہا ہوں۔ ۳- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنی قبر کو بت بنانے سے ڈرایا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کی جائے،اور آپ کے علاوہ مخلوق کے دیگر افراد بدرجۂ اولیٰ اس تحذیر وتنبیہ کے مستحق ہیں،ارشاد ہے: (( اللھم لا تجعل قبري وثناً یعبد،اشتد غضب اللّٰہ علی قوم اتخذوا قبور أنبیائھم مساجد)) [1] اے اللہ میری قبر کو بت نہ بننے دینا کہ اس کی عبادت کی جائے،ایسے لوگوں پر اللہ کاغضب شدید تر ہو جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اسی طرح آپ نے تنبیہ اور نفرت دلانے کے لئے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے
[1] مؤطا امام مالک،کتاب قصر الصلاۃ في السفر،باب جامع الصلاۃ،۱/۱۷۲،یہ روایت امام مالک کے نزدیک مرسل ہے،اور مسند احمد (۲/۲۴۶)کے الفاظ یہ ہیں :’’اللھم لا تجعل قبري وثناً،ولعن اللہ قوماً اتخذوا قبور أنبیائھم مساجد‘‘،والحلیۃلابی نعیم،۷/۳۱۷،نیزدیکھئے:فتح المجید،ص:۱۵۰۔