کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 194
اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حد سے زیادہ بڑھانے سے منع فرمایا ہے،ارشاد ہے: (( لا تطروني کما أطرت النصاریٰ ابن مریم فإني أنا عبدہ،فقولوا:عبد اللّٰہ ورسولہ)) [1] مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بڑھا دیا،میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں،لہٰذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔ نیز ارشادہے: ((إیاکم والغلو فيالدین،فإنما أھلک من کان قبلکم الغلوفي الدین)) [2] دین میں غلو کرنے سے بچنا،کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے انہیں دین
[1] صحیح بخاری مع فتح الباری،(الفاظ اسی کے ہیں ) کتاب الانبیاء،باب قولی تعالیٰ: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ۔۔﴾،۶/۴۷۸،۱۲/۱۴۴،اس کی شرح کے لئے دیکھئے: فتح الباری۱۲/۱۴۹۔ [2] سنن نسائی،کتاب مناسک الحج،باب التقاط الحصیٰ،۵/۲۶۸،وسنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب قدر حصی الرمی،۲/۱۰۰۸،ومسند احمد،۱/۳۴۷۔