کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 190
اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
مبحث ششم:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں غلو اور مبالغہ کی حرمت
۱- صالحین کے بارے میں غلو:
اللہ عز وجل کے ساتھ شرک کا ذریعہ ہے،چنانچہ آدم علیہ الصلاۃ و السلام کے زمین پر اتارے جانے کے بعد سے لوگ اسلام پر گامزن تھے،عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
(( کَانَ بَیْنَ آدَمَ وَنُوْحٍ عَشَرَۃُ قُرُوْنٍ کُلُّھُمْ عَلَی الإِسْلَامِ)) [1]
آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیان دس صدیاں گذری ہیں یہ سب کے سب اسلام (توحید) پر گامزن تھے۔
اس کے بعد لوگ نیک لوگوں سے تعلق قائم کرنے لگے اور آہستہ آہستہ دنیا
[1] مستدرک حاکم،کتاب التاریخ،۲/۵۴۶،اور امام حاکم نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے‘ لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا ہے،اور امام ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے۔ نیز امام ابن کثیر نے اسے بخاری کے حوالہ سے البدایۃ والنہایہ میں ذکر فرمایا ہے،۱/۱۰۱،دیکھئے: فتح الباری۶/۳۷۲۔