کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 186
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾[1]
ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے سراپا رحمت بناکر بھیجا ہے۔
نیز فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾[2]
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ‘ مگر لوگوں کی اکثریت بے علم ہے۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کی رسالت (سب کے لئے) عام ہے،ارشادہے:
(( أعطیت خمساً لم یعطھن أحد من الأنبیاء قبلي‘‘ وذکر منھا:’’وکان النبي یبعث إلی قومہ خاصۃ،وبعثت إلی الناس عامۃ)) الحدیث[3]
[1] سورۃ الانبیاء: ۱۰۷۔
[2] سورۃ سبأ: ۲۸۔
[3] صحیح بخاری مع فتح الباری،کتاب الصلاۃ،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : جعلت لی الارض مسجداً و طہوراً ۱/۵۳۳،وصحیح مسلم،کتاب المساجد،۱/ ۳۷۰،حدیث(۵۲۱)۔