کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 180
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’ اللہ نے جو بھی نبی بھیجا اُس سے یہ عہد ضرور لیا کہ اگر اُس کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوجائے تواُسے آپ پر ایمان لانا اور آپ کی مدد کرنا ضروری ہے‘ اور اُس نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی امت سے بھی یہ عہد و پیمان لے کہ اگر ان کے زندہ رہتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوگئی تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور آپ کی مدد کرنا ضروری ہے‘‘۔[1] اسی لئے حدیث میں آیا ہے:
((لو کان موسی حیاً بین أظھرکم ماحل لہ إلا أن یتبعني)) [2]
کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔
[1] دیکھئے: الفرقان بین اولیاء الرحمن وأولیاء الشیطان،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ ص ۷۷،۱۹۱تا ۲۰۰،وفتاویٰ ابن تیمیہ ۱۹/۹تا ۶۵ بعنوان: ایضاح الدلالۃ فی عموم الرسالۃ للثقلین،والجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح،۱/۳۱تا ۱۷۶،و تفسیر ابن کثیر ۱/۳۷۸،وأضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن،۲/۳۳۴،ومعالم الدعوۃ از دیلمی۱/۴۵۴تا ۴۵۶،و المناظرۃ بین الاسلام والنصرانیہ،ص ۳۰۳ تا ۳۰۹۔
[2] مسند احمد ۳/۳۳۸،اس حدیث کے کئی شواہد اور مختلف سندیں ہیں جنہیں علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر فرمایا ہے،۱/۱۷۳تا ۱۷۴۔ نیز دیکھئے: مشکاۃ المصابیح بتحقیق علامہ البانی ۱/۶۳،۶۸۔