کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 95
کتاب’’ مجموع فتاوی و مقالات متنوعہ ‘‘[1]میں کیا ہے کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’المیزان‘‘[2] میں اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’اللسان المیزان‘‘[3]میں اس کا ذکر کیا ہے۔ لہذا جس کسی کو بھی یہ پمفلٹ ملے اسے چاہیے کہ اسے جلا دے ۔اور جھوٹوں کے جھوٹ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے پھیلانے والوں کو ڈرائے۔ اورمیں کہتا ہوں کہ علماء پر واجب ہے کہ وہ اس جھوٹے پمفلٹ کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں ۔اورحاکم وقت پر واجب ہے کہ اس قسم کی جھوٹی احادیث پھیلانے والوں کو سزا دیں تاکہ جھوٹوں اور مفسدوں کے جھوٹ سے صحیح احادیث اور صحیح عقیدہ پاک رہے۔اور مسلمانوں کے عقیدہ کو اہل خرافات کے دجل سے محفوظ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو نیک اعمال اور صحیح علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔[آمین] وصلی ا للّٰه علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔ [1] [مجموع فتاوی و مقالات متنوعہ ج /10ص277 اورج /26ص357] [2] [میزان الاعتدال ج/6ص264] [3] [لسان المیزان ج/5ص295]