کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 83
والوں کے لے [کسی سزا] موت ‘ حادثہ ‘فقروفاقہ یا کسی آفت کا کوئی ذکر ہے ۔ اس لیے جو ان آیات کو لکھنے اور تقسیم کرنے کی جزا متعین کرے؛اور اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی وقت متعین کرے؛ وہ یقیناً علم غیب میں دخل اندازی اور اللہ تعالیٰ پر ناحق بات کرے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسی بات سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولـئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً﴾[اسراء: 33 ] ’’جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ وکیونکہ کان آنکھ اور دل میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِا للّٰه مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی ا للّٰه مَا لاَ تَعْلَمُونَ﴾ [الاعراف:33] ’’کہ دیجئے میرے رب نے حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ اور پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور نا حق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی بات لگا دو جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ اس سے ثابت ہوگیا کہ ایسے پمفلٹس کی طرف دعوت دینا اوران پر ثواب و عقاب کی مقرر کرنا بہت بڑا گناہ ہے اورایسا کرنے والا اپنے اس فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سزا کا مستحق ہے۔اور حکام بالا کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اسے دین میں بدعات داخل کرنے سے روکنے کے لیے سزا دیں تاکہ وہ اپنے ان کاموں سے باز آجائے۔[1]اور اس سے دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وبا للّٰه التوفیق،وصلی ا للّٰه علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔ [1] [فتاوی اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتافتوی نمبر5730ء ج /3ص 121,122]