کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 79
اس پمفلٹ کا لکھنے والا سب سے بڑاکذاب اوردجال ہے جوکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی توہین کرتا ہے۔ اس نے آیات کریمہ کو جھوٹ اور خرافات کے ساتھ ملا کر پیش کیا ہے۔اس نے یہ کہہ کر علم غیب کا دعوی کیا ہے کہ اس پمفلٹ کے 25 نسخے دوسروں تک پہنچانے والے کو چار دن میں یہ اور یہ بھلائی ملے گی اور ایسا نہ کرنے والے کو بہت بڑانقصان پہنچے گا۔یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ اور علم غیب جاننے کا دعوی ہے۔ اس لیے کہ لوگوں کومستقبل میں خیر و شر اور ثواب وعقاب میں سے کیا کیا ملنے والا ہے یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور نیک اعمال پر ثواب و عقاب کی تحدید اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سوا کوئی نہیں کر سکتا ۔اور کتاب و سنت میں ان قرآنی آیات کے لکھنے اور تقسیم کرنے کا ثواب کہیں بھی ذکر نہیں ہوا اور نہ ہی تقسیم نہ کرنے والوں کے لئے سزا کاذکر ہوا ہے یہ افترا کرنے والے کی افتراپردازی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسے قصے کہانیوں کا مقصد لوگوں کو ان جھوٹی حکایات اور باطل خرافات میں مشغول کرکے انہیں حق سے دور کرنا اوران کے دلوں میں باطل اور خرافات پر مبنی عقائد کا بیج بونا ہے تاکہ صحیح عقیدہ پر وار کیا جاسکے ۔ الحمد للہ کہ اس قسم کے جھوٹے لوگ اس ملک(سعودی عرب)میں صراحتاً اور بالمشافہ لوگوں کو باطل کی طرف دعوت نہیں دے سکتے؛ اس لیے انہوں نے یہ خفیہ طریقے اختیار کیے جن کی طرف جاہل لوگوں کے ذہن متوجہ نہیں ہوتے؛ یہی ایسے لوگ ہیں جنہیں جھوٹے وعدہ دھوکہ میں مبتلا کرتے ہیں ‘ اور وہ ان اکاذیب اور خرافات پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں ۔خاص طور پر جب وہ ان جھوٹے پمفلٹس میں قرآنی آیات لکھ کر لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں ۔یہ بالکل ان کاہنوں کی طرح ہیں جوایک سچ کیساتھ سو جھوٹی باتیں بولتے ہیں ؛ تاکہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرسکیں ۔ اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو؛ اور دروغ گوئی کرنے والوں سے اور ان کے پھندوں سے آگاہ رہو۔ایسے پمفلٹس کو جلا دو اور حکام بالا کو ان بارے میں خبر دو۔ خبردار!! کبھی بھی ان کے دھوکے میں مت آنا نہ ہی ان کے پمفلٹس تقسیم کرنے میں حصہ لینا اور جو کوئی ان کے پمفلٹ تقسیم کر چکا ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے توبہ کرے اور آئندہ کے لیے ایسا کام نہ کرے۔ بعض نوجوان جو خیر کو پسند کرتے ہیں ؛ لیکن احکام شریعت سے ناواقف ہوتے ہیں ‘جو کہ بعض اوقات ایسے وعظ ؛یا احادیث یا فتاوی کتابوں سے نقل کرکے چھاپ دیتے ہیں جن میں کوئی غلطی ہوتی ہے ۔ہو سکتا ہے کہ جو انہوں نے چھاپا ہووہ ضعیف غلط یا غیر مدون ہو؛ یا کوئی ایسا خاص فتوی ہو جس کا نشر کرنا نا مناسب ہو۔ ایسے نوجوان حضرات نیک نیتی سے ایسے اشتہار مسجدوں مدرسوں اور مختلف اداروں کی دیواروں پر لگادیتے ہیں ۔ایسا کرنے سے باطل اور غلط باتوں کی اشاعت اور عوام کے درمیان دین کے بارے میں مختلف سوچیں اور تشویش پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نوجوانوں کو اس سے آگاہ کریں ۔اللہ تعالیٰ آپ کو حق بات کی اتباع کی توفیق دے ۔ یہ آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ سعودی عرب میں الرئاسۃ العامۃ لادارۃ البحوث العلمیۃ والافتاء کے نام سے ایک