کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 75
سچی بنیاد ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس قسم کے دعووں میں کوئی حقانیت ہے ۔ بلکہ یہ دونوں پمفلٹ سب سے بڑے جھوٹ اور باطل ہیں ۔تمام مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے اس سے بچتے رہیں اور مسلمان بھائیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾[المائدہ:2] ’’ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ و ظلم اور زیادتی میں مدد نہ کرو۔‘‘ اور اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَر﴾ [توبہ:71] ’’مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور)دوست ہیں ،وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں پمفلٹ ایسی برائی ہیں جس کا انکار کرنا واجب ہے۔ اور حکمرانوں پر بھی واجب ہے کہ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر انہیں عوام الناس کے سامنے سزائیں دیں تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی صحیح سمجھ اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائے، دین کی مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں گمراہ فتنوں اور شیطان کے وسوسوں سے بچا ئے اور دشمنانِ اسلام کو نیچا دکھانے اور ان کے مکر کو باطل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہ سمیع قریب،وصلی ا للّٰه وسلم علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ ۔