کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 72
میں پوچھتے ہیں کہ کیا تمہیں فری ٹکٹ چاہیے؟۔اگرجواب دینے والا ہاں کر دے تو بطور مذاق وہ اسے یہ ٹکٹ تھما دیتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ بعض لوگ اس ٹکٹ کا ساتھ دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کریں گے کہ کیا نیک اعمال انسان کے لیے زاد سفر نہیں ہوتے؟میں انہیں یہ جواب دیتا ہوں کہ کیوں نہیں ! اللہ کی قسم نیک اعمال ہی اصل زاد راہ ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وتزودوا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی﴾[البقرہ :196] ’’اور زاد راہ اختیار کرو ‘ بیشک سب سے بہتر توشہ اللہ تعالی کا ڈر ہے۔‘‘ بعض لوگ یہ دلیل پیش کریں گے کہ اگر بعض لوگ اسے استہزا کے طور پر لیتے ہیں تو یہ لوگوں کی غلطی ہے۔اس پمفلٹ کا مذاق اڑانے سے اس کا بطلان ظاہر نہیں ہوتا۔ اس کاجواب یہ ہے کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ بعض لوگوں کا اللہ کے دین کا مذاق اڑانا اسے باطل نہیں کرتا۔کتنے ہی ایسی لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کا مذاق اڑایا؛ سنت نبوی سے استہزاکیا ۔ ان کے استہزا کرنے سے قرآن و حدیث باطل نہیں ہوتے۔لیکن دعوت کا جو طریقہ آپ نے اپنایا ہے ایسا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں اپنایاتھا؛اورنہ ہی شریعت دعوت کے اس طریقے کوصحیح قرار دیتی ہے لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں :’’کیا مرنے کے بعد انسان آخرت کا مسافر نہیں ہوتا؟ ہمارا جواب ہے کہ کیوں نہیں ! بے شک انسان مسافر ہے اور ہر مسافر کو زاد راہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔اور آخرت کا زاد راہ تقوی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے علم پر مبنی ہے ۔ان تمام چیزوں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بے نیاز کردیتا ہے : ﴿کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَاتُوَفَّوْنَ أُجُورَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ [آل عمران :85] ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور روزِقیامت تم اپنے بدلے پورے پورے دئیے جاو گے،پس جو شخص آگ سے ہٹا دیاجائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وہ کامیاب ہو گیا،اور دنیوی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔‘‘ بردران اسلام ! ہمیشہ خیال رکھیں کہ آپ کی دعوت کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے نہ کہ ایسا کہ لوگ اسے دین کا مذاق بنا لیں ۔میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو دین حق کی دعوت دینے والا بنائے۔ إنہ جواد کریم،و صلی ا للّٰه و سلم علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ أجمعین۔