کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 66
اور جس نے نماز کو تجارت، خرید و فروخت ؛ حساب و کتاب کی وجہ سے ضائع کیا ؛اوروہ اسی سوچ میں رہا کہ فلاں پر کتنا قرض ہے ‘ اور فلاں پر کتنا قرض ہے ‘ یہاں تک کہ نماز ضائع ہوگئی ؛ اس نے ابی بن خلف تاجر مکہ کی مشابہت اختیار کی؛ اور قیامت کے دن آگ میں اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ابی بن خلف مکہ کا تاجر تھا اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے مبارک ہاتھوں سے حالت کفر میں قتل کیا[1]۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عظیم وعید تارک ِ نماز کے کفر پر دلالت کرتی ہے‘چاہے وہ اس کا منکر نہ ہو۔ہم اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دشمنوں کی مشابہت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ ٭٭٭ [1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ بروزقیامت لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب پانے والا وہ ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو‘ یا اسے کسی نبی نے قتل کیا ہو‘‘۔أخرجہ أحمد ۱/۴۰۷۔ وصححہ الألباني في السلسلۃ الصحیحۃ (۲۸۱۱)۔