کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 65
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( أثقل الصلاۃ علی المنافقین صلاۃ العشاء وصلاۃ الفجر۔ و لو یعلمون ما فیھما لأتوھما ولو حبواً۔))[1] ’’منافقوں پر جو نمازیں سب سے بھاری ہیں وہ عشاء کی اور فجر کی نماز ہے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ ان میں کیا ہے تو وہ ضرور حاضر ہوتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔‘‘ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے کہ:’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کے درمیان نمازکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: (( من حافظ علیھا کانت لہ نوراً و برھاناً ونجاۃً یوم القیامۃ ومن لم یحافظ علیھا لم تکن لہ نوراً ولا برھاناً ولا نجاۃً ‘وحشر یوم القیامۃ مع فرعون وھامان وقارون وابی بن خلف۔))[2] ’’جس نے نماز کی حفاظت کی تو نماز قیامت کے دن اس کے لیے نور ،برہان اور نجات کا سبب ہوگی اور جس نے اس کی حفاظت نہیں کی تو قیامت کے دن اس کے لیے نہ نورو برہان ہو گی اور نہ ہی نجات کا سبب ہو گی بلکہ وہ فرعون ، ہامان ، قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔‘‘ جو نمازوں کی حفاظت نہیں کرتے ‘اس حدیث میں ان کے لیے بہت بڑی وعید ہے۔ اس حدیث کی شرح میں بعض علماء نے بیان کیا کہ نماز کو ضائع کرے والا فرعون ،ہامان ،قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔جس نے نماز کو ریاست ، امارت اور بادشاہت کی خاطر چھوڑا‘ اس نے فرعون کی مشابہت کی اور قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جس نے نماز کو نوکری اور وزارت کی خاطر چھوڑا اس نے فرعون کے وزیر ہامان کی مشابہت کی اور وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اس کو اس کی نوکری کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ہی آگ سے نجات دلائے گی۔اور جس نے نماز کو مال کی محبت اور خواہشات کی وجہ سے چھوڑا اس نے قارون کی مشابہت کی جوکہ بنی اسرائیل کا تاجر تھا۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ قَارُونَ کَانَ مِن قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْْہِم﴾[القصص: 76] ’’قارون تھا تو قوم موسی سے،لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔‘‘ قارون نے اپنے مال اور خواہشات کی محبت کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کی پیروی سے انکار کیا اتو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا۔اور وہ قیامت کے دن تک ایسے ہی زمین میں دھنستا چلا جائے گا؛اور اس عذاب کے ساتھ ساتھ وہ قیامت کے دن آگ کا عذاب بھی بھگتے گا ۔ [1] [صحیح بخاری وصحیح مسلم] [2] [مسند الامام ابی احمدج /2حدیث نمبر169]