کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 63
’’ اس دین کی جڑ اسلام ہے، نماز اس کا ستون ہے ‘ اور اسکی ریڑھ کی ہڈی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: (( بنی الاسلام علی الخمس شھادۃ أن لا إلہ إلا ا للّٰه وأن محمداً رسول ا للّٰه ،وأقام الصلاۃ وإیتاء الزکاۃ وصوم رمضان،وحج البیت۔))[1] ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوۃ ادا کرنا،رمضان کے روزے رکھنااور حج کرنا۔‘‘ دوسری جگہ فرمایا: ((العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر۔))[2] ’’ہمارے اور کافروں کے درمیان عہد صرف نماز کا ہے۔جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔‘‘ اور فرمایا:(( بین الرجل و بین الشرک والکفر ترک الصلاۃ۔))[3] ’’مسلمان اور کفر و شرک کے درمیان صرف نماز کا فرق ہے۔‘‘ نماز کی اہمیت پر بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ‘جو کہ تمام بے نمازی کے کافر ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔چاہے وہ نماز کے وجوب کا منکر نہ ہو۔ ان دلائل سے یہی واضح ہوتا ہے کہ یہی قول صحیح ہے۔ لیکن اگر وہ نماز کے فرض ہونے کا منکر ہو تو اہل علم کے اجماع کے مطابق کافر ہو گا۔چاہے وہ نماز پڑھتا ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ یہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جھٹلارہا ہے ۔اور جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس کے روزے ،اس کا حج اور ا ن کے علاوہ اس کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔کیونکہ کفراکبر تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْن﴾[المائدہ: 5] ’’منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں ہارنے والوں میں سے ہیں ۔‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ﴿وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ﴾[الانعام: 88] ’’اور اگریہ حضرات بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال اکارت ہو جاتے۔‘‘ اس معنی میں بہت سے آیات وارد ہوئی ہیں ۔ [1] [ صحیح بخاری حدیث نمبر 8] [2] [احمد ج/5حدیث نمبر346،ترمذی حدیث نمبر2545،نسائی 459،ابن ماجہ1079 ، البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ۔دیکھیے صحیح الجامع] [3] [صحیح مسلم حدیث نمبر 86،احمدج /3حدیث نمبر389]