کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 60
قوۃ إلا باللہ… ہمیں مسلمانوں کی اکثریت محض سستی اور کوتاہی کی بنا پرنماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے نظرنہیں آتے۔اللہ کی انسان پر بہت نعمتیں ہیں پھر بھی انسان اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری نہیں کرتا۔جیسا کہ فرمان ربانی ہے: ﴿کَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَیَطْغَی ٭أَن رَّآہُ اسْتَغْنَی ﴾[العلق :6۔7] ’’سچ مچ انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بیش بہا نعمتیں کی ہیں ‘اور اس کی رحمت بہت ہی وسیع ہے ‘ مگر اس کے مقابلہ میں بہت سارے لوگ اس کی نافرمانی اور کفر کرتے ہیں ۔ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ ان امور سے بچ کر رہنا اور لوگوں کو حق بات کی دعوت دینا واجب ہے۔ہر انسان اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دعوت دے ‘ اور اس کام میں خوب محنت کرے۔ اور جو لوگ اس کے گرد و نواح میں نماز سے پیچھے رہ جانے والے ہیں انہیں نصیحت کرے۔ نماز چھوڑنے والوں کو اور نماز میں سستی کرنے والوں کو نصیحت کرے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے کسی کو ہدایت دیدے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فلیبلغ الشاھد الغائب،فرب مبلغ أوعی من سامع۔))[1] ’’حاضر( افراد)غیر موجود (افراد) تک بات پہنچا دیں عین ممکن ہے کہ جس تک یہ بات پہنچے وہ سننے والے سے بہترثابت ہوں ۔‘‘ علماء کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ جس نے سستی کی وجہ سے نماز چھوڑ دی؛ اس نے کفر اکبر کا ارتکاب کیا ،اگرچہ وہ نماز کے وجوب کا منکر نہ ہو۔ان سابقہ آیات و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اگر کوئی یہ کہے کہ وہ نماز کے واجب ہونے پر ایمان رکھتا ہے ‘ مگر پھر بھی نماز کو سستی کی وجہ سے چھوڑنے والا دین کا مذاق اڑاتا ہے۔اوراپنے رب کی بہت بڑی نافرمانی کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے۔ اس اس بنا پر علماء کے صحیح تر قول کے مطابق وہ کافر ہو گا۔عموم ادلہ کی روشنی میں وہ کافر ہوجاتا ہے۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: ((العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر۔))[2] ’’ہمارے اور کافروں کے درمیان عہد صرف نماز کا ہے۔جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔‘‘ مندرجہ بالا حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ نماز چھوڑنے والا کافر ہے۔‘ یہ نہیں فرمایاکہ :’’اس کے وجوب کا انکار کرنے والا کافر ہے۔‘‘اسی طرح یہ حدیث: (( بین الرجل و بین الشرک والکفر ترک الصلاۃ۔))[3] ’’مسلمان اور کفر و شرک کے درمیان صرف نماز کافرق ہے۔‘‘ [1] [صحیح سنن ابو داود ح3660 صحیح ترغیب و ترھیب ح 147] [2] [احمدج/5ح346ترمذی ح2545،نسائی ح459،ابن ماجہ ح 1079،البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح کہا۔] [3] [ صحیح مسلم حدیث نمبر 86،احمد ج /3حدیث نمبر389]