کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 58
اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا: ((کان النبی یبعث إلی قومہ خاصۃ وبعثت إلی الناس عامۃ۔))[1] ’’تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے ، لیکن میں تمام انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہوں ‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ ا للّٰه إِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً﴾[الاعراف: 185] ’’ کہ دیجیے کہ لوگو!میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَنَذِیْرا﴾[ سبا: 28] ’’اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ ﴾[الانبیاء :107] ’’اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ پھر ان دونوں شہادتوں اقرار کے بعد نماز کا حکم ہے ۔نماز شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے عظیم الشان رکن ہے ۔جس نے نماز کی حفاظت کی اس نے اپنے دین کو بچا لیااور جس نے اس کو ضائع کر دیا وہ باقی دین کو سب سے بڑھ کر ضائع کرنے والا ہے۔مسند احمد میں صحیح روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام( رضی اللہ عنہم )کے درمیان نمازکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ((من حافظ علیھا کانت لہ نورا و برھانا ونجاۃ یوم القیامۃ و من لم یحافظ علیھا لم تکن لہ نورا ولا برھانا ولا نجاۃ ‘وحشر یوم القیامۃ مع فرعون وہامان وقارون وأبی بن خلف۔))[2] ’’جس نے نماز کی حفاظت کی تو نماز قیامت کے دن اس کے لیے نور ،برہان اور نجات کا سبب ہوگی اور جس نے اس کی حفاظت نہیں کی تو قیامت کے دن اس کے لیے نہ نور و برہان ہو گی اور نہ ہی نجات کا سبب ہو گی بلکہ وہ فرعون ، ہامان ، قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔‘‘ علماء نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایاہے:جس نے نماز کی حفاظت نہ کی وہ ان کافروں کے ساتھ ان کی مشابہت کی وجہ سے اٹھایا جائے گا۔کیونکہ جو جس کی مشابہت کرتا ہے قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [1] [صحیح بخاری حدیث نمبر 335،صحیح مسلم حدیث نمبر 3] [2] [مسند احمد ج/2حدیث نمبر169]