کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 52
حکم شرعی کا مکلف ہونے کے بعد خواہ مرد ہو یا عورت ‘ دنیا و آخرت میں تارک ِ نماز کی سزاقرآن و حدیث کی روشنی میں [1] دنیا میں سزا: 1۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر۔))[2] ’’ہمارے اور ان (کفار)کے درمیان عہد نماز کا ہے۔جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔‘‘ اور فرمایا: (( بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ۔))[3] ’’آدمی(مسلمان)اور کفر و شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔‘‘ جلیل القدر تابعی عبداللہ بن شقیق العقیلی روایت کرتے ہیں : (( کان أصحاب محمد صلی ا للّٰه علیہ وسلم لا یرون شیئا من الأعمال ترکہ کفر لغیر الصلاۃ)) [4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نماز کے علاوہ کسی اور عمل کے ترک کو کفر شمار نہیں کرتے تھے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اجماع تھا کہ نماز چھوڑنا کفر ہے۔ 2۔تارک نماز سے توبہ کروائی جائے گی اور جو توبہ کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اگر وہ توبہ کرنے سے انکار کر دے تو علماء کے صحیح تر قول کے مطابق ولی الامر پر واجب ہے کہ اسے مرتد کی حیثیت سے قتل کر دے ‘چاہے وہ نماز کے واجب ہونے کا ااقرار کرتا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إني نھیت عن قتل المصلین۔))[5] [1] یہ میں نے شیخ علامہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے جوابات میں سے ترتیب دیا ہے تاکہ قارئین کرام کو پڑھنے میں آسانی ہو۔ [ مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ،الصلاۃ،القسم الاول ،جلد نمبر 10] [2] احمد ص /5ح346،ترمذی ،نسائی، ابن ماجہ۔ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے دیکھیں [صحیح الجامع ح 4143]شیخ علامہ عبدالعزیز بن بازلکھتے ہیں کہ اسے [احمد ،ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے‘‘ دیکھیں :[مجموع فتاوی و مقالات متنوعہ ج/10حدیث نمبر236] [3] [ صحیح مسلم حدیث نمبر 86،احمد ج /3حدیث نمبر389] [4] [ ترمذی ح 2622] البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے دیکھیں :[صحیح ترغیب و ترھیب ح 565] [5] [ابو یعلی ،مسند ج /4ح1455]، اور دیکھیے [المشکاۃ ح 4481،الصحیحہ ح2379 ، صحیح الجامع ح6785]