کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 48
ان آیات میں تارک نماز کے لیے سخت سزا کا ذکر ہوا کہ وہ جہنم میں ہونگے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نماز میں سستی کرنے والوں کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ عَن صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ٭الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئُ وْنَ ٭ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ﴾[الماعون] ’’ ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ )ہے جو اپنی نما ز سے غافل ہیں ۔وہ جو دکھاوا کرتے ہیں ۔اور عام برتنے کی چیزیں روکتے ہیں ‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( بنی الإسلام علی خمس :شھادۃ أن لا إلہ إلا ا للّٰه وأن محمد رسول ا للّٰه وإقام الصلاۃ وإیتاء الزکاۃ وصوم رمضان وحج البیت )) [1] ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوۃ ادا کرنا،رمضان کے روزے رکھنااور حج کرنا۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا: ((العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ ،فمن ترکھا فقد کفر۔))[2] ’’ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز کا ہے۔جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا‘‘ اور اس بارے میں بہت سی آیات اورصحیح ا حادیث وارد ہوئی ہیں جوکہ معلوم شدہ ہیں ۔ قارئین کرام! ان دلائل کی روشنی میں اب کسی کے لیے گنجائش نہیں رہی کہ وہ اس جھوٹی حدیث پر مشتمل پمفلٹ کو لکھ کر لوگوں میں تقسیم کرے یا کسی اور طریقے سے اس کو پھیلانے میں شریک ہو۔ جو کوئی اس سے پہلے اس کی نشرو اشاعت میں میں شرکت کر چکا ہو‘ اسے چاہیے کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعلانیہ توبہ کرے اور اپنے کیے ہوئے پر شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کرے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور باطل کو باطل کر دکھائے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہمیں ظاہرو باطن فتنوں سے بچائے ۔ وصلی ا للّٰه وسلم علی عبدہ ورسولہ محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان نے فرمایا: یہ پمفلٹ جس کا عنوان ہے :’’تارکِ نماز کی سزا‘‘۔اس کے کاتب نے اپنے پمفلٹ میں یہ حدیث ذکر کی ہے: [1] [ البخاری ح: [۸]۔ [2] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔