کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 47
نیز آپ [مجموع الفتاوی میں ۱۰/۲۸۰] یہ بھی فرماتے ہیں : ’’ تارک نماز کی سزا سے متعلق اس پمفلٹ والے نے جو حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہے ‘ کہ ایسے انسان کو پندرہ سزائیں دی جائیں گی …‘‘بیشک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑئی جھوٹی اور باطل باتوں میں سے ایک ہے ۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے[اللسان المیزان]میں محمد بن علی ابن العباس البغدادی العطار کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ’’اس نے تارک ِ نماز کے بارے میں حدیث گھڑ کر اسے ابی بکر بن زیادکی طرف منسوب کیا ہے۔ اس سے یہ روایت محمد بن علی الموازینی جوکہ ابو النرسی کا شیخ ہے ‘ نے نقل کی ہے۔ ابن زیاد کی روایت کے مطابق اس نے یہ حدیث ربیع سے نقل کی ہے ‘ ربیع نے شافعی سے؛ انہوں نے مالک سے ،مالک نے سُمي سے اور انہوں نے ابی صالح سے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے نماز میں سستی کی اللہ اسے 15 پندرہ سزائیں دے گا۔۔‘‘[1] اس روایت کا من گھڑت اور جھوٹا ہونا بالکل ظاہر ہے ۔ [جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا کہ محمد بن علی جھوٹا ہے‘ حدیث کی دوسری کتابوں میں اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی حدیث باطل ہے]۔ اللجنۃ الدائمۃ ۱۰/۶/۱۴۰۱ھ میں اس روایت کے باطل ہونے کا فتوی دے چکی ہے۔ پھر کسی سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک باطل اور من گھڑت روایت کو لوگوں میں پھیلائے؟[2] جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من روی عني حدیثاً وھو یری أنہ کذب ؛ فھو أحد الکاذبین۔))[3] ’’جس نے مجھ سے حدیث بیان کی اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔‘‘ تارک ِ نماز کی سزاکے بارے میں قرآن و حدیث میں جو آیات و احادیث موجود ہیں ‘ وہ کافی و شافی ہیں ۔[ملاحظہ فرمائیں ] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوتاً﴾[النساء:103]:’’یقینا نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔‘‘ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ٭قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ﴾[المدثر:43۔42] ’’تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا ۔وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔‘‘ [1] [اللسان المیزان ج/5ص295] ۔ [2] [فتوی نمبر 8689۔ ج /4حدیث نمبر468اور ج /26 حدیث نمبر360] [3] [التنکیل ج /1حدیث نمبر149]