کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 46
’’ ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ )ہے جو اپنی نما ز سے غافل ہیں ۔‘‘ اس معنی میں اور بھی بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر)) [1] ’’ہمارے اور ان (کفار)کے درمیان عہد نماز کا ہے۔جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔‘‘ امام احمد اور اہل سنن نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( بین الرجل والشرک والکفر ترک الصلاۃ)) [2] ’’آدمی(مسلمان)اور کفر و شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے‘‘۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے اصحاب کے درمیان نماز کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا: ((من حافظ علیھا کانت لہ نوراً وبرھاناً ونجاۃً یوم القیامۃ و من لم یحافظ علیھا لم تکن لہ نوراً ولا برھاناً ولا نجاۃً ‘و حشر یوم القیامۃ مع فرعون وہامان وقارون وأبیي بن خلف۔)) [3] ’’جس نے نماز کی حفاظت کی تو نماز قیامت کے دن اس کے لیے نور ،برہان اور نجات کا سبب ہوگی اور جس نے اسکی حفاظت نہیں کی تو قیامت کے دن اس کے لیے نہ نورو برہان ہو گی اور نہ ہی نجات کا سبب ہو گی بلکہ وہ فرعون،ہامان،قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا‘‘۔ بعض علماء نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’جس نے نماز کو ضائع کیا وہ قیامت کے دن ان بڑے بڑے کفار فرعون ،ہامان،قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ ان کی مشابہت کی وجہ سے اٹھایا جائے گا ۔کیونکہ جس نے نماز کو ریاست کی وجہ سے ضائع کیا وہ فرعون کے مشابہ ہوا۔ اور جس نے وزارت اور دوسرے وظائف کی وجہ سے نماز کو ضائع کیا اس نے ہامان‘فرعون کے وزیر جیسا عمل کیا ۔اور وہ اسی کے ساتھ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔جس نے مال اور شہوات کی وجہ سے نماز کو ضائع کیا؛ وہ قارون کے ساتھ ہو گا ۔جس نے اتباع حق کے انکار کی وجہ سے نماز کو ضائع کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا تھا۔جس نے تجارت کی وجہ سے نماز کو ضائع کیا؛ اس نے ابی بن خلف جیسا عمل کیا جو مکہ کا بڑا تاجر تھا اور اسی کے ساتھ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا ‘‘۔ ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ [1] [احمد ج/5ح346،ترمذی ح 2545،نسائی ح459،ابن ماجہ ح1079،البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح کہا۔دیکھیے صحیح الجامع حدیث نمبر 4143] [2] [صحیح مسلم ح 86،احمد ج/3ح389] [3] [مسند الامام احمد ج /2ح169]