کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 39
لکھنے والے نے جوکہا ہے کہ :’’اس جھوٹی خبر کو لکھ کر مسلمانوں میں تقسیم کرے گا اسے یہ فوائد اور مصالح حاصل ہونگے اور جو اسے نظر انداز کرتے ہوئے تقسیم نہیں کرے گا؛ اسے یہ یہ نقصان پہنچے گا‘‘یہ سب کذب بیانی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ؛بلکہ یہ جھوٹوں دجالوں کی افترا پردازی اور دروغ گوئی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ نفع و نقصان کے حصول میں مسلمانو ں کا اعتماد شرعی اور مباح اسباب کے اختیار کرتے ہوئے بھی ان کے رب وحدہ لاشریک سے اٹھا کر غیر اللہ کی طرف لگا دیں جس میں نفع کے حصول اور نقصان سے بچنے کے لیے ناجائز؛ غیر شرعی اور باطل اسباب کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد بھی ختم ہوجائے ؛ اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے موڑ کر غیر اللہ کی عبادت پر لگادیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دشمنان اسلام کی ایک سازس ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو دین ِ حق سے دور کرنے کی جانی یا انجانی حیلہ سازی ہے ۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان حیلہ سازیوں سے بچیں اوران کے دھوکہ میں نہ آئیں ۔اور مسلمان پریہ بھی واجب ہوتا ہے کہ جھوٹے لوگوں کی کذب بیانی پر کان نہ دھریں ‘ اور وقتاً فوقتاً پھیلائے جانے والے اس طرح کے منشورات کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔جن کے بارے میں اس سے پہلے بھی آگاہ کیا جا چکا ہے ۔ مسلمان کیلئے کسی بھی صورت میں ایسے پمفلٹ لکھنا اور انہیں لوگوں میں پھیلانا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ بلکہ ایسا کرنا ایک برائی ہے جس کا مرتکب گنہگار ہوگا۔ اور اس کے بارے میں بدیر یا جلدی عقوبت کا ڈر رہتا ہے۔اس لیے کہ یہ امور بدعت ہیں ۔ اور بدعت کا شر بہت بڑا ہے ‘ اور اس کی عاقبت بہت ہی اندوھناک ہوتی ہے۔ اور مذکورہ بالا پمفلٹ اس صورت میں ایک برائی والی بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ شرک اور اہل بیت اور دوسرے مردوں کی شان میں غلو کے اسباب میں سے ہے ۔اس میں غیر اللہ کی عبادت اور ان سے مدد طلب کرنے کی دعوت ہے ۔اور غیر اللہ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی اور نفع و نقصان دینے پر قادر ہے جوکہ اللہ تعالیٰ پر ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔ فرمان الٰہی ہے : ﴿إِنَّمَا یَفْتَرِیْ الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِ ا للّٰه وَأُوْلـئِکَ ہُمُ الْکَاذِبُون﴾[النحل 105] ’’جھوٹ افتراء تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیات پر ایمان نہیں ہوتایہی لوگ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فھو رد ۔))[1] ’’جو شخص ہماراے دین میں وہ چیز ایجاد کرے جو (اصل میں ) اس میں ( شامل نہیں )ہے تو وہ مردود ہے‘‘۔ لہذا جس کسی کو اس قسم کی خبریں (پمفلٹس ؛ نشریات یا کتابچے) ملیں اسے چاہیے کہ انہیں جلا کر ختم کر دے؛یا انہیں کسی بھی طرح تلف کردے۔ اور لوگوں کو بھی اس کی کذب بیانی کی خبر دے۔اس میں موجودجھوٹے وعد و وعید کی طرف بھی دھیان نہ دے کیونکہ یہ سب جھوٹ ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ‘ اور نہ ہی اس کے نتیجہ میں کوئی بھلائی یابرائی مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی اس پمفلٹ کو لکھے‘ اسے گھڑے اور لوگوں میں تقسیم کرے اور اسکی دعوت دینے والا سب ہی [1] [صحیح بخاری حدیث نمبر 2697،صحیح مسلم حدیث نمبر1718]