کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 33
جناب محترم شیخ عبداللہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ امام وخطیب مسجد ِ حرام فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں [1] کہ: ’’ سب سے خطرناک جھوٹ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہے کیونکہ اس سے حق و باطل کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کی سزا بھی بہت شدید ہے تاکہ لوگ اس میں تساہل نہ کریں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار))۔[سبق تخریجہ] ’’جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ باندھااسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ اورجہنم کتنا ہی برا ٹھکانہ ہے ! آج کل لوگوں کے درمیان جو چیز پھیلی اور پھیلائی جا رہی ہے اسے یک عام سی بات سمجھ کر بغیر سوچے سمجھے لوگ دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ؛ جس میں کسی تفکر و تدبر کی ضرورت نہیں محسوس کی جارہی۔یہ اصلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی تہمت مشتمل ایک پمفلٹ ہے جسے ایک خیالی نامعلوم شخص کی زبانی پھیلایا جارہا ہے ۔اس خبر کو بعض لوگ اپنی زبانی اور بعض اپنی تحریرکے ذریعہ پھیلا رہے ہیں ۔وہ عوام الناس میں کثرت کے ساتھ ایسی خبریں پھیلا کر ان کودھوکہ دے رہے ہیں ۔حالانکہ اگر وہ ذرا بھی غور و فکر کریں ؛ اور اس پمفلٹ کے اسلوب کی جانچ پرکھ کریں تو ان کے سامنے اس کا جھوٹ کھل کر واضح ہو جائے گا اور وہ اس خبر کو سید الفصحاء ‘وبلغاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسا گرا ہوا اور گھٹیااسلوب منسوب کرنے سے رک جائیں گے۔ اگر اس بات پرذرا غور کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اپنی امانت سچائی کے ساتھ ادا کی اور لوگوں تک اپنا پیغام بہتر طریقے سے پہنچادیاہے ‘تو یہ بات عقل میں کیسے آسکتی ہے کہ انہوں نے ایک عام آدمی سے اپنی وصیت پہنچانے کی درخواست کی ہو جبکہ وہ رفیق اعلی سے مل چکے ہیں اور اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں ؟ اللہ کے بندو !یہ وصیت نامہ کوئی نیا نہیں جو گناہ گار لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے پر مشتمل ہے۔ حالانکہ جس کے لیے اللہ نے ہدایت لکھی ہے اس کے لیے قرآن وحدیث میں موجود ترہیب و تحذیر اور اللہ کے عذاب سے ڈراوا ہی کافی ہے۔البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ کر ڈراناجیسا کہ اس جھوٹے وصیت نامہ میں ہے کہ: ’’ قریب ہی سورج تین دن کے لیے چھپ جائے گاا ور مغرب سے طلوع ہو گا۔ اور لوگوں کے دلوں سے قرآن اٹھا لیا جائے گا‘‘۔ [1] [الخطب فی المسجد الحرام عبداللہ الخیاط رحمۃ اللہ علیہ ج 2 ص129,128,127/]