کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 140
منشورات: میں آپ کی خدمت میں ایک دعا ارسال کر رہا ہوں جو یوں ہے: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا :’’پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو،یہ کہنے لگے میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتا ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔اے جن و انس، شیاطین، شکاری پرندے، الو اور چوروں کی جماعت (س۔م۔م) اللہ کے سمع و بصر اور قوت کے ذریعے تمہارے سمع و بصر اور قوت پر قابو پاتا ہوں ۔(س۔م۔م) میرے اور تمہارے درمیان نبوت کا پردہ ڈالتا ہے ،جس کے پردے سے فرعون اور اسکے داروغے ڈھانپ لیے گئے تھے ۔ جبرئیل تمہاری دائیں طرف ہے ،میکائیل بائیں طرف،محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سامنے اور اللہ تمہارے اوپرسے تمہیں (س۔م۔م) سے مال و جان واولاد اور جو کچھ اس پر ہے ‘ اور جو کچھ اس کے ساتھ ہے اور جو کچھ اس کے نیچے ہے؛سے روکتا ہے۔تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان میں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں ۔اور ان کے دلوں پر پردے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اسکی توحید کے ساتھ،اس قرآن میں کرتا ہے تو وہ رو گردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘( اس تین مرتبہ پڑھیں )۔ سوال: میرا یہ سوال ہے کہ کیا یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ اورکیا اس طریقہ سے دعا مانگنا درست ہے؟ آنجناب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ پمفلٹ بھیجنے والی عورت مدرسہ تحفیظ القرآن میں معلمہ ہے ۔ اور میں آنجناب سے امید کرتا ہوں کہ اس پر گہری نظر ڈالیں گے۔ جواب: یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔نہ ہی اس دعا کی کوئی حقیقت ہے بلکہ یہ دعا تو غیر مفہوم عبارات اور مشتبہ جملوں پر مشتمل ہے ۔لہذا اس طریقے سے دعا مانگنا ؛ اس پمفلٹ کو پھیلانا اور اس کی نشرو اشاعت کرنا نا جائز ہے؛ اس کی بجائے جو کوئی خیر حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے قرآن و سنت میں موجودہ دعائیں کافی ہیں ۔ وبا للّٰه التوفیق، وصلی ا للّٰه علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء[1] صدر:عبدالعزیز آل شیخ رکن:عبداللہ بن غدیان رکن:صالح الفوزان رکن:بکر ابو زید [1] [فتوی21167۔ج /24ص273,274]