کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 129
قرآن و حدیث کے مطابق ہو گی تو اللہ جلدی قبول فرمائے گا اور اسی میں ہی اس کے دین کی بھلائی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُواْ لِیْ وَلْیُؤْمِنُواْ بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُون﴾[البقرہ: 186] ’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ،ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں ۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘ وبا للّٰه التوفیق، وصلی ا للّٰه علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء[1] صدر:عبدالعزیز آل شیخ ، رکن:عبداللہ بن غدیان، رکن:صالح الفوزان، رکن:بکر ابو زید اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء کا رد سوال: کیا ان دعاؤں کو مذکورہ حالتوں میں مانگنا درست ہے؟ سبق یاد کرنے سے پہلے کی دعا: ’’اللھم انی اسئلک فھم النبیین وحفظ المرسلین والملائکۃ المقربین ۔وان تجعل لسانی عامرہ بذکرک ،وقلبنی بخشیتک ،وسری بطاعتک فانت حسبی ونعم الوکیل۔‘‘ ’’اے اللہ ! میں تجھ سے نبیوں جیسی سمجھ ،رسولوں جیسی حفاظت اور فرشتوں جیسی قربت کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! میری زبان کو ہمیشہ اپنے ذکر کی اورمیرے دل کو اپنی خشیت کی اورسر کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا کر۔مجھے اللہ ہی [1] [فتوی نمبر21350۔ج24 ص183,184,185,186]