کتاب: جھوٹی بشارتیں - صفحہ 116
الجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء[1] سوال: ہم حرز الجوشن کا ایک نسخہ آپ کی خدمت میں ارسال کر رہے ہیں ۔برائے مہربانی درج ذیل نکات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے: 1)کیا’’حرز الجوشن‘‘ کا احادیث کی کتابوں میں کوئی وجود ہے؟ 2)کیاواقعی’’حرز الجوشن ‘‘ جعفر صادق،امیر المومنین علی بن ابی طالب اور حسن رضی اللہ عنہما سے وایت کیا گیا ہے ؟یا اس کا مؤلف کوئی اور ہے؟ 3) اس کو بطور حفاظت اپنے ساتھ رکھنے کی بجائے دعا کے طور پر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟کیونکہ اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اسماء وصفات ہیں ۔ 4)کیا میں اس کو جلاکر اس سے چھٹکارا حاصل کرلوں تو کیا گنہگار ہوں گا ؟ اور اگر میں اس کو سنبھال کر رکھوں تو کیاپھر بھی میں گنہگار ہوں گا؟ ہمیں فتویٰ دے کر اللہ کے ہاں ماجور ہوں ۔ جواب: حفاظتی کتاب’’حرز الجوشن ‘‘ کی تصدیق کرنا یا اس پر عمل کرنا درج ذیل امور کی وجہ سے ناجائز ہے: 1)علماء حدیث نے اس کی کوئی سند نہیں پیش کی اورنہ ہی اسے کسی قابل اعتماد محدث نے روایت کیا ہے اورنہ ہی اسے کسی عالم کی طرف منسوب کیا ہے۔ 2)اس کتاب میں بہت سے جھوٹ شامل ہیں ۔ جیسا کہ صفحہ نمبر 1پر لکھا ہے ’’جس نے اسے صبح اور شام کے وقت پڑھا اور گھر سے نکلتے وقت اپنے ساتھ رکھاتو وہ نیک اعمال کے لیے مخصوص ہو گیا اورگویا کہ اس نے تورات ، انجیل ، زبور اور قرآن عظیم کو پڑھا۔‘‘ یہ سب سے بڑا جھوٹ اور باطل ہے کیونکہ اس نے اس حفاظتی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے برابر ٹھہرایاہے ‘جب کہ اللہ تعالیٰ کے کتابوں کے برابر کوئی کتاب نہیں ہو سکتی ۔ پھر آگے اس نے لکھا ہے کہ:’’اس کتاب کے ایک حرف پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ دوحور العین عطا فرمائے گا ،جنت میں اس کیلئے ایک محل بنایا جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو چار انبیاء(ابراہیم ، موسی ، عیسی اور محمد علیہم السلام ) کے برابر ثواب دے گا۔‘‘ [1] [فتوی نمبر17890]