کتاب: جھوٹ کی سنگینی اور اس کی اقسام - صفحہ 28
خرابی صرف یہیں تک نہیں ، بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کے جھوٹ پر رنجیدہ ہونے والے، اپنے لیے دروغ گوئی کو عقل و دانش کی علامت سمجھتے ہیں ۔ کذب بیانی سے بزعم خود دوسروں کو بیوقوف بنانے کا تذکرہ اپنے لیے باعث افتخار گردانتے ہیں ۔ جھوٹ سے خو د اپنے آپ کو ، اہل و عیال ، بہن بھائیوں اور تمام انسانیت کو بچانے کی غرض سے میں نے اس کتاب میں اس کے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں کچھ باتیں درج ذیل چار عنوانوں کے تحت ترتیب دینے کا توفیقِ الٰہی سے عزم کیا ہے: ۱: جھوٹ کی سنگینی ۲: جھوٹ چھوڑنے کا عظیم الشان صلہ ۳: جھوٹ کی اقسام ۴: جھوٹ بولنے کی اجازت کے مواقع کتاب کی تیاری میں پیش نظر باتیں : اس سلسلے میں توفیق ِالٰہی سے درج ذیل باتوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کی گئی ہے: ۱: کتاب کے لیے بنیادی معلومات قرآن و سنت سے حاصل کی گئی ہیں ۔ ۲: احادیث شریفہ کو عام طور پر ان کے اصل مآخذ و مراجع سے نقل کیا گیا ہے۔ ۳: صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کے اقوال پیش کیے گئے ہیں ۔ احادیث صحیحین کی صحت پر اجماع اُمت کے پیش نظر، اہل علم کے ان کے متعلق، اقوال کو ذکر نہیں کیا گیا۔ [1] ۴: آیاتِ کریمہ اور احادیث شریفہ سے استدلال کرتے وقت تفاسیر اور شروح [1] ملاحظہ ہو: مقدمۃ النووي لشرحہ علی صحیح مسلم، ص:۱۴؛ و نزھۃ النظر في توضیح نخبۃ الفکر للحافظ ابن حجر، ص۲۹۔