کتاب: جشن میلاد یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ - صفحہ 7
تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیرِکہن سال دَہر نے کروڑوں برس صَرف کردیئے۔سیّارگانِ فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے۔چرخِ کُہن مدّت ہائے درازسے اسی صبح ِجان نواز کے لیئے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنانِ قضاء وقدر کی بزم آرائیاں،عناصر کی جدّت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں،اَبروباد کی تردستیاں،عالمِ قُدس کے انفاسِ پاک،توحیدِابراہیم،جمالِ یُوسف،معجزطرازیٔ موسیٰ،جان نوازیٔ مسیح(علیہم السّلام) سب اسی لئے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں قدر،شاہ ِکونین(صلّی اﷲعلیہ وسلّم) کے دربار میں کام آئیں گے‘‘۔ آج کی صبح وہی صبحِ جاں نواز،وہی ساعت ِہمایوں،وہی دورِ فرخ فال ہے۔ اربابِ سِیرَ اپنے محدُود پیرایۂ بیان میں لکھتے ہیں کہ: ’’آج کی رات ایوانِ کسریٰ کے چَودہ کنگرے گرِ گئے۔آتش کدۂ فارس بجھ گیا۔دریائے ساوہ خشک ہوگیا‘‘۔ [1] آگے علّامہ شبلی لکھتے ہیں:لیکن سچ یہ ہے کہ ایوانِ کسریٰ نہیں بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم اور اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گِر پڑے۔ آتشِ فارس نہیں بلکہ جحیمِ شر،آتشکدۂ کفر، آذرکدۂ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے۔صنم خانوں میں خاک اُڑنے لگی۔بُت کدے خاک میں مِل گئے۔شیرازۂ مجُوسیّت بِکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراق ِخزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑگئے۔ توحید کا غلغلہ اُٹھا۔چمنستانِ سعادت میں بہار آگیٔ۔آفتابِ ہدایت کی شُعاعیں ہر طرف پَھیل گئیں۔ اخلاقِ انسانی کا آئینہ پَر توِقُدس سے چمک اُٹھا۔(یعنی) یتیمِ عبداﷲ،جگر گوشئہ آمنہ، [1] مگریاد رہے کہ یہ ارہاصاتِ نبّوت دلائل النبوّۃ میں امام بیہقی نے اور طبقات(۱؍۶۳) میں ابنِ سعد وغیرہ نے ذکر کیئے ہیں۔ مگر علاّمہ محمد الغزالی نے اپنی کتاب’’فقۃ السیرۃ‘‘ میں ان تعبیرات کو غلط قراردیا ہے۔(فقہ السیرہ بتخریج الالبانی ص ۶۱ طبع مصر)