کتاب: جشن میلاد یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ - صفحہ 33
اور صحیح مسلم و ترمذی میں بھی پیر اور جمعرات کے روزہ کی یہی وجہ بیان ہوئی ہے۔اور مسلم کی ایک حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ پیر کے روزے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں پیدا ہوا تھا،اور اسی دن میں مبعوث کیا گیا یا مجھ پر وحی نازل کی گئی تھی۔ [1] ان تمام احادیث سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ پیر و جمعرات کے روزے کا اصل سبب اعمال کا پیش کیا جانا ہے۔ اور اضافی سبب( صرف پیرکے روزہ کے لیئے) یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن پیدا ہوئے تھے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ رکھنا محض ولادت کی وجہ سے ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پیر کا روزہ رکھتے۔ جمعرات کا نہ رکھتے۔ پھر پیر کا روزہ بھی سال میں ایک مرتبہ رکھتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخِ ولادت کے موافق ہوتا، ہر ہفتہ میں نہ رکھتے۔ کیونکہ کِسی واقعہ کی یاد سال میں ایک مرتبہ ہی منائی جاتی ہے نہ کہ ہر ہفتے میں ایک مرتبہ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ رکھنا اعمال کے اللہ کے سامنے پیش کیئے جانے کی وجہ سے تھا۔اور اگر کوئی حُبّ ِ رسول کا دم بھرنے والا ہے تو وہ ہر ہفتے میں پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرے،جو کہ سنّتِ رسول ہے،نہ کہ بدعات کا ارتکاب کرے۔ اور بدعات کے جواز کے لیئے احادیث کا مفہوم توڑ موڑ کر بیان کرتا پھرے۔ اور روزے کی بجائے۔ اکل و شُرب کی محفلوں کی طرف دعوت دیتا پھرے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ہر گزثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاوّل(۹یا۱۲) کا روزہ کبھی رکھا ہو جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ہر سال اس دن کا روزہ اس نیّت سے رکھے تو یہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی، شریعت سازی اور نعوذُ باﷲ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت آموزی ہے۔ وَالْعِیَاذُ بِااللّٰهِ۔ [1] ریاض ا لصّالحین،ص ۴۸۸تا ۴۸۹،مراجعہ الا ٔرناؤوط۔طبع دمشق(شام)