کتاب: جشن میلاد یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ - صفحہ 16
بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً } ’’پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اُسے اﷲ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو۔ اگر تم واقعی اﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔‘‘ ۳۔٭اور اس سلسلہ میں تیسرا اصول یہ ہے کہ جب اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کردیں تو اسے بلا چُون و چرا قبول کرلینا ہی ایمان کی سلامتی کا ضامن ہے۔ جیسا کہ سورۂ النساء آیت ۶۵ میں ارشادِ الٰہی ہے: {فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْ ا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْ اتَسْلِیْمًا} ’’(اے پیغمبر) تیرے پر ور دگار کی قسم،وہ مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ تجھ سے نہ کروائیں اور پھر تیرے فیصلے سے ان کے دِلوں میں کچھ اُداسی نہ ہو، بلکہ(خوشی خوشی) مان کر منظُور کر لیں۔‘‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرّہ بھر بھی تنگی اور نا پسندید گی کی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {لَا یُؤْ مِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ}[1] تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس میرے لائے ہوئے طریقے(دین) کے تابع نہ ہو۔ اور سورئہ احزاب آیت ۳۶ میں فرمایا: [1] ابن کثیر آیت وَمَا کَا نَ لِمُؤ ْمِنٍ وَّلَا مُؤ ْ مِنَۃٍ (ا لا ٔحزاب الایۃ:۳۶)