کتاب: جشن میلاد یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ - صفحہ 13
عام الفیل ماہِ ربیع الاوّل میں یوم الاثنین کی صحت کے پیش ِنظر اور فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم رضی اﷲ عنہ کے یومِ وفات پر سُورج گرہن لگنے کے حساب کو مدِّ نظر رکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی صحیح تاریخ ۹ /ربیع الاوّل ہی آتی ہے، جبکہ شمسی عیسوی تقویم کے حساب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا وقت ۲۰ /اپریل ۵۷۱ء ؁ بروزِ پیر کی صبح بنتا ہے۔ [1] محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے وہ کئی صفحوں میں آیا ہے۔ اس کاخلاصہ یہ ہے: 1۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صغیر السن صاحبزادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا۔ اور یہ ۱۰ /ہجری تھا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا تریسٹھواں (۶۳)سال تھا۔ 2۔ریاضی کے قاعدے سے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۰ /ہجری کا گرہن ۷ /جنوری ۶۳۲ ء؁ کو آٹھ بج کر تیس منٹ پر لگا تھا۔ 3۔اسی حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری تریسٹھ برس پیچھے ہٹیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا سال ۵۷۱ ء ؁ہے،جس میں ازرُوے قوائدِہیئت ربیع الاوّل کی پہلی تاریخ ۱۲ /اپریل ۵۷۱ء ؁کے مطابق تھی۔ 4۔تاریخ ِولادت میں اختلاف ہے،لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاوّل کا مہینہ اور دوشنبہ یعنی پیر کا دن تھا۔ اورتاریخ آٹھ سے لے کر بارہ تک میں منحصر ہے۔ ربیع الاوّل مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن صرف نویں تاریخ کو پڑتا ہے۔ ان وجُوہ کی بناء پر تاریخ ِ ولادت قطعاً ۲۰ /اپریل ۵۷۱ ء؁ تھی۔ اور ربیع الاوّل کی نو تاریخ۔اور بارہ ربیع الاوّل کی روایت مشہور تو ہے مگر وہ حساب سے صحیح ثابت نہیں ہوتی(بحوالہ سیرت النبی ۱/۱۷۱-۱۷۲، طبع قرآن محل،کراچی) [1] حدائق الانوار ۱؍۲۹ طبع قطرعن التقویم العربی ۳۶ تا ۳۹