کتاب: جرح وتعدیل - صفحہ 63
ایسا راوی اپنی حدیث میں کثیر الغلط ہوتا ہے، اسے صحیح ضبط نہیں کرسکتا۔[1] لیس بہ بأس: امام ابن ابی خیثمہ نے کہا کہ میں نے امام ابن معین سے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں: فلان لیس بہ باس اور فلان ضعیف ؟توامام ابن معین نے کہا:کہ جب میں آپ کو کسی راوی کے بارے میں بتاؤں:لیس بہ بأس۔تو اس سے مراد ہے کہ وہ ثقہ راوی ہے اور جب میں کسی کو ضعیف کہوں تو اس سے مرادہے کہ وہ ثقہ نہیں،اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔[2] لا اعرفہ: امام ابن عدی فرماتے ہیں کہ جس راوی کو امام ابن معین کہیں:لا اعرفہ۔تو وہ مجہول غیر معروف ہے۔کسی دوسرے کی معرفت پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔[3] اس پر حافظ ابن حجر تبصرہ فرماتے ہیں کہ یہ ہر حالت میں نہیں چلے گا،کتنے ایسے راوی ہیں جن کو ابن معین نہیں جانتے بلکہ دوسرے محدثین انھیں جانتے ہیں( تو جو جانتے ہیں ان کی بات مانی جائے گی۔)[4] امام بخا ری کی خاص اصطلاحات: امام بخا ری کا تا ریخ کبیر میں اپنا خا ص منہج ہے جس کو سمجھنا نہا یت ضروری ہے، تاکہ التا ریخ الکبیرپڑھتے وقت کسی غلط فہمی کا شکا ر نہ ہوں۔ علا مہ معلمی یما نی فر ما تے ہیں: ا ما م بخا ری کا التا ریخ الکبیرمیں کسی حدیث کوبیا ن کر نا اسے کچھ فا ئدہ نہیں دیتا، بلکہ اس کو نقصان پہنچا تا ہے کیو نکہ امام صا حب التا ریخ میں حدیث اس لئے ذکر کر تے ہیں کہ وہ اس کے راوی (صا حب تر جمہ )کی کمز وری پر دلالت کر ے۔[5] [1] دراسۃ التاریخ لابن معین ـ۱-۱۱۶۔۱۱۹ بحوالہ الاعتصام ۲۴ تا ۳۰ مارچ ۲۰۱۷ء. [2] تاریخ اسماء الثقات لابن شاہین:۱۶۵۳،الکفایۃ:۱-۲۲،مقدمہ ابن الصلاح:۱-۱۲۴. [3] الکامل فی الضعفاء:۱۱۲۵. [4] تہذیب التہذیب:۶-۲۱۸. [5] تعلیق الفو ائد المجمو عۃ للمعلمی:ص،۱۸۰تحت ح ۶۱.