کتاب: جرح وتعدیل - صفحہ 117
ابوالحسن احمد بن علی ابن الحسین المحتسب المعروف بابن التوزی (۲۵۱ نصوص) ابوالحسن احمد بن محمد بن احمد العتیقی (۱۰۵۳ نصوص) ابوالقاسم علی بن المحسن التنوخی (۸۷۲ نصوص) ابوعلی الحسن بن احمد بن ابراہیم بن شاذان البزاز(۶۶۲ نصوص) ابوعبداللہ الحسین بن علی بن الصمیری القاضی (۴۴۷ نصوص) علی بن محمد السمسار (۵۵۰ نصوص) ابوالفرج الحسین بن علی الطناجیری (۲۲۸ نصوص) ابوالحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران البغدادی المعدل (۳۰۷ نصوص) ابومحمد الحسن بن علی الجوہری (۴۲۱ نصوص) ابوطاہر حمزہ بن محمد بن طاہر الدقاق(۱۹۷ نصوص) عبداللہ بن یحیی السکری (۲۲۰ نصوص) ابو العلاء محمد بن علی الواسطی (۵۷۳ نصوص) ابوعمر عبدالواحد بن محمد بن عبداللہ بن مھدی البزاز(۵۴۵ نصوص) ابوالحسن محمد بن عبدالواحد بن علی البزاز (۹۵ نصوص) عبداللہ بن عمر بن احمد بن شاہین (۲۸۷ نصوص) اسی طرح امام بغدادی کا بہت سا مواد بغداد سے ہی لکھی ہوئی کتب کی صورت میں ملا اور بغداد کی کئی ایک بستیوں میں سفر بھی کیے اور وہاں سے بہت سارا مواد ملا۔ امام خطیب نے ۸۷ کتب لکھیں۔آپ ۷ ذوالحجہ ۴۶۳ ھجری کو فوت ہوئے۔فوت ہونے سے پہلے اپنی تمام کتب مسلمانوں کے لیے وقف کر دیں اور ابوالفضل بن خیرون کے سپرد کر دیں تاکہ وہ لوگوں کوپڑھنے اور نقل کرنے کے لیے عاریۃ دیتے رہیں۔ تاریخ بغداد میں کل تراجم ۷۸۳۱ ہیں۔ اس کتاب پر کئی ایک ذیل بھی لکھے گئے مثلا ذیل تاریخ بغداد لابی سعد عبدالکریم بن