کتاب: جرح وتعدیل - صفحہ 115
ہیں۔ خلاصہ یہ کہ انہوں ( ابن حبان) نے اس ( الثقات) کا مسودہ ہی چہوڑا تھا اور اسکی تنقیح اور تہذیب کا موقع ہی نہیں مل سکا۔(صحیح موارد الظمآن: 1 ؍ 51، 25) علامہ البانی نے تساھل کے صدور میں ان باتوں کو سبب بنایا ہے کہ امام صاحب کی طرف یہ منسوب ہے کہ وہ نبوت کے بارے میں کہتے تھے: النبوۃ: العلم والعمل ‘‘ اب یہ الزام درست ہے یا غلط، فی الحال اسے زیر بحث لانے کا یہ موقع نہیں، بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علامہ البانی کی رائے کے مطابق ایک تو انہیں اس مقولے کی وجہ سے فتنوں نے گھیر لیا تھا کہ انہیں پوری طرح سے یکسوئی حاصل نہ ہوسکی، دوسرا یہ کہ چونکہ ’’الثقات ‘‘ انکی ’’التاریخ‘‘کا اختصار ہے،لہذا اسکی وہ تہذیب وتنقیح نہ کرسکے، اس لیے یہ اوھام ’’ الثقات‘‘میں رہ گئے۔ بہر حال یہ بعض امکانی باتیں ہیں جن سے کتاب الثقات میں اوہام کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا۔ حافظ ابن حجر امام ابن حبان کی علل پر بہت اعتماد کرتے ہیں: ابن حجر فرماتے ہیں:ذکرا بن حبان انہ مات کالذی قبلہ۔(تقریب:۱۷۰) ایک جگہ لکھتے ہیں:قال ابن حبان:لم یسمع من صحابی۔(تقریب:۲۳۳) ایک جگہ لکھتے ہیں:قال ابن حبان:مات ایام عثمان (تقریب:۵۷۵) ایک جگہ لکھتے ہیں:ذکرہ ابن حبان فی ثقات التابعین (تقریب:۵۹۰) ایک جگہ لکھتے ہیں:قال ابن حبان:وہم من ضبطہ (تقریب:۱۵۳۰) ایک جگہ لکھتے ہیں:قال ابن حبان:مات ولہ مائۃ سنۃ وسنۃ (تقریب:۱۶۳۲) حافظ ابن حجر کاامام ابن حبان سے اتفاق: یونس بن یوسف (الثقات:۷؍۶۴۸)قال ابن حجر:ثقۃ (تقریب:۸۹۳۷) یونس بن یزید (الثقات:۷؍۶۴۸)قال ابن حجر:ثقۃ(التقریب:۸۹۳۵) یونس بن محمد المؤدب (الثقات:۹؍۲۸۹)قال ابن حجر:ثقۃ (۸۹۲۸)