کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 92
یہ حدیث بڑی انوکھی، فصیح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاکردہ حسین مثال وغیرہ پرمشتمل جامع کلمات میں سے ہے، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جنت تک ناپسندیدہ چیزوں کے اور جہنم تک شہوات کے ارتکاب سے ہی پہنچا جا سکتا ہے، اسی طرح جنت و جہنم کو ان دونوں چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، لہٰذا جو بھی گھیرا توڑے گا گھیرے کے اندر جاپہنچے گا، چنانچہ جنت کی پردہ دری ناپسندیدہ چیزوں کا ارتکاب ہے اور جہنم کی پردہ دری شہوات (من چاہی چیزوں ) کا ارتکاب ہے۔ ناپسندیدہ چیزوں میں عبادات میں جد وجہد، ان کی پابندی، ان کی دشواریوں پر صبر و ضبط، غصہ پینا، معاف کرنا، حلم و بردباری، صدقہ، بدسلوک کے ساتھ حسن سلوک اور خواہشات نفس کو لگا م دینا وغیرہ شامل ہیں ۔ رہی وہ من چاہی چیزیں جن سے جہنم کو گھیر دیا گیا ہے، تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرام خواہشات ہیں ، جیسے شراب، زناکاری، غیر محرم کو دیکھنا، غیبت، چغلخوری، آلات لہو ولعب کا استعمال وغیرہ۔