کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 78
پائے، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منہ حشر کریں گے، دراں حالیکہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جب کبھی وہ بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکادیں گے۔ یہ ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور یہ کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ‘ پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں گے۔ نیز ارشاد باری ہے: ﴿ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ﴿٤٧﴾ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ﴾[1] بیشک گناہ گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں ۔ جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے(اور ان سے کہاجائے گا) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو۔ نیز ارشاد باری ہے: [1] سورۃ القمر: ۴۷،۴۸۔