کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 65
تک پہنچے، تو اسے کچھ رنگوں نے ڈھانپ لیا جسے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے، فرماتے ہیں کہ : پھر میں جنت میں داخل ہوا، جس میں موتی کے گنبد ومنارے تھے، اور اس کی مٹی مشک تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((لَمّا خلَق اللّٰہُ الجنةَ والنارَ أرْسَلَ جبرئيل إلى الجنةِ، فقال: انظُرْ إليها وإلى ما أعْدَدْتُ لأهلِها فيها،۔۔۔ ثم قال: اذهب إلى النارِ ! فانظر إليها وإلى ما أعْدَدْتُ لأهْلِها فيها، ، فنظر إلیھا فإذا ھي یرکب بعضھا بعضاً ۔۔۔))([1]) الحدیث۔ جب اللہ نے جنت وجہنم کی تخلیق فرمائی تو جبریل علیہ السلام کو جنت [1] سنن ترمذی، حدیث(۱۲۹۷) ونسائی، اسے علامہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی (۲/۳۱۷) اور صحیح سنن نسائی (۲/۷۹۷، حدیث: ۳۵۲۳) میں حسن قرار دیا ہے۔