کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 59
کے نیچے ہے، یعنی جس طرح جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے اسی طرح سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے۔[1] امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’صحیح یہ ہے کہ ’’سجین‘‘ سجن سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ تنگی کے ہیں ، کیونکہ مخلوقات جتنا نیچے ہوں گی تنگ ہوتی جائیں گی، اور جتنا بلند(اوپر) ہوں گی کشادہ ہوتی جائیں گی، اس لئے کہ ساتوں افلاک میں سے ہر ایک اپنے نیچے والے کے بالمقابل کشادہ اور بلند ہوتا ہے، اسی طرح ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک اپنے سے نیچے والی زمین کے بالمقابل کشادہ ہوتی ہے (اسی طرح بتدریج) یہاں تک کہ سب سے آخری سطح اور تنگ ترین جگہ ساتویں زمین کے وسط میں مرکز تک پہنچ جاتی ہے۔[2] پھر امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ: بدکاروں کا ٹھکانہ جہنم [1] دیکھئے: تفسیر البغوی، ۴/ ۵۸ ۴ ، ۴۵۹و تفسیر ابن کثیر ۴/۴۸۵ ،۴۸۶، والتخویف من النار لابن رجب ص ۶۲،۶۳۔ [2] تفسیر ابن کثیر ۴/۴۴۶ ۔