کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 43
درخت ہوں ۔[1] اور ’’جنت‘‘ درختوں اور کھجوروں پر مشتمل باغ کو کہا جاتا ہے، جس کی جمع ’’جنات‘‘ آتی ہے، نیز جنت اس باغیچہ کو بھی کہا جاتا ہے جس کے درختوں سے زمین چھپ گئی ہو،[2] اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ﴾۔[3] یقینا قوم سبا کے لئے ان کی رہائش گاہوں میں نشانی تھی‘ دائیں اور بائیں سے دوباغ تھے۔ اور ’’حدیقہ‘‘ جس کی جمع ’’حدائق‘‘ آتی ہے درختوں اور کھجوروں پر مشتمل باغ کوکہاجاتا ہے‘ اور یہی ’’بستان‘‘ یعنی چھوٹا باغ ہے،اور [1] دیکھئے: حادی الارواح لابن القیم، ص۱۱۱۔ [2] دیکھئے: لسان العرب، ۱۳/۹۹ ومفردات القرآن للاصفہانی، ص۲۰۴ والمصباح المنیر۱/۱۱۲۔ [3] سورۃ سبأ: ۱۵۔