کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 230
امت کے سب سے بڑے عالم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (اس آیت کی) تفسیر یوں فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کی ذریت (نسل) کو جو ایمان کی حالت میں مرے ہیں اسی کے درجہ میں کردے گا، گرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہی کیوں نہ ہوں ، (یہ اس لئے کہ) تاکہ ان سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے انہیں انتہائی خوبصورت چہروں میں باہم اکٹھا فرمائے گا۔[1] یہ آباء کے عمل کی برکت سے بیٹوں پر اللہ کا فضل و کرم ہے، رہا بیٹوں کی دعاء کی برکت سے آباء پر اللہ کافضل وکرم توابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إن اللّٰہ لیـرفـع الـدرجـۃ للـعبد الـصالـح فـي الـجنۃ، فیقول: یـا رب أنـی لـي ھـــذہ؟ فیــــقول: باستـــغفار ولدک لک)) [2] [1] تفسیر ابن کثیر، ۴/۲۴۲۔ [2] مسند احمد، ۲/۲۰۹، امام ابن کثیر اپنی تفسیر(۴/۲۴۳) میں فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔