کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 228
کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ! کیوں نہیں ، لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿ وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ ﴿٤٩﴾ قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَاتِ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۚ قَالُوا فَادْعُوا ۗ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ ﴾[1] اور (تمام) جہنمی مل کرجہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعاکرو کہ وہ کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزہ لے کر نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ! وہ کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اثر اور بے راہ ہے۔ [1] سورۃ غافر (مومن): ۴۹، ۵۰۔