کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 197
﴿ إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ ﴿٧١﴾ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ ﴾[1] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے۔ کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے۔ ﴿أَغْلَالُ﴾ ’’غل‘‘ کی جمع ہے ، ’’غل‘‘ اس لوہے کو کہتے ہیں جس سے قیدی کے ہاتھ کو اس کی گردن سے باندھا جاتا ہے (جسے عام لفظ میں طوق کہا جاتا ہے)، مفہوم یہ ہے کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوگا اور طوق میں بندھی زنجیریں عذاب کے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گی، وہ انہیں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ کرکبھی جہنم میں اور کبھی کھولتے ہوئے پانی کی طرف لے جائیں گے۔[2] نیز اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: [1] سورۃ غافر(مومن): ۷۱، ۷۲۔ [2] النھایۃ فی غریب الحدیث، لابن الاثیر ۳/۳۸۰، تفسیر ابن کثیر، ۴/۸۹۔