کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 174
أذفــر)) [1] میں جنت میں سیر کررہا تھا کہ یکایک ایک ایسی نہر کے پاس آیا جس کے دونوں کنارے جوف دار موتی کے قبے تھے، تو میں نے کہا : اے جبریل یہ کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: یہ وہ حوض کوثر جسے آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا ہے،میں نے دیکھا کہ اس کی مٹی یا اس کی خوشبو پھوٹتا ہوا (تیز خوشبووالا) مشک تھا۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿١﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿٢﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴾[2] یقینا ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔یقیناآپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام ونشان ہے۔ [1] صحیح بخاری، حدیث(۶۵۸۱)۔ [2] سورۃ الکوثر: ۱ تا ۳۔