کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 171
آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ﴾[1] اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے والا نہیں ‘ اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلا، اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ ﴿ مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ ﴾ یعنی ایسا پانی جس کی لذت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہوگی۔[2] اور نہر(حوض) کوثر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی جائے گی (اس سلسلہ [1] سورۃ محمد: ۱۵۔ [2] تفسیر ابن کثیر، ۴/۱۷۷، تفسیر البغوی، ۴/۱۸۱ ۔