کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 167
کا مفہوم یہ ہے کہ جنتی ایک ایسے آبخورے کا جام نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔ اور یہ چیز معلوم ہے کہ کافور میں نہایت پاکیزہ خوشبو اور ٹھنڈک ہوتی ہے، ساتھ ساتھ اس پر جنت کی لذت دوبالا ہوگی۔[1] اور کہا گیاہے کہ اس میں کافور کی آمیزش اور مشک کی مہر ہوگی۔[2] ﴿ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے اپنے محلوں اور نششت گاہوں میں جہاں چاہیں گے لے جائیں گے اور حسب منشا اس میں تصرف کریں گے۔[3] نیز ارشاد ہے: ﴿ وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا ﴿١٥﴾ قَوَارِيرَ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا ﴿١٦﴾ وَيُسْقَوْنَ [1] تفسیر ابن کثیر، ۴/۴۵۵۔ [2] تفسیر البغوی، ۴/۴۲۷ ۔ [3] تفسیر ابن کثیر، ۴/۴۵۵، تفسیر البغوی، ۴/۴۲۸ ۔