کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 161
یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔ بلند وبالا جنت میں ۔ جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ اور پیو، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانہ میں کئے۔ ۲- جہنمیوں کا کھانا: (الف) زقوم کا کھانا: اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ﴿٥١﴾ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ﴿٥٢﴾ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ﴿٥٣﴾ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ﴿٥٤﴾ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ﴿٥٥﴾ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ﴾[1] پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو۔ یقیناً تھوہڑ کا درخت کھانے والے ہو۔ اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو۔ پھر اس پر گرم کھولتا پانی [1] سورۃ الواقعہ: ۵۱ تا ۵۶۔