کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 15
صورت میں یہ ’’کثیر‘‘ (زیادہ) ہی کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔[1] عظیم کامیابی کے سلسلہ میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾۔[2] ان مومن مرد وں اور مومن عورتوں سے اللہ تعالیٰ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے، اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی عظیم کامیابی ہے۔ نیز ارشاد ہے: [1] مفردات غریب القرآن للاصفہانی، ص۵۷۳۔ [2] سورۃ التوبہ: ۷۲۔