کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 135
عطاکی گئی ہیں اتنی اور کسی کوبھی عطا نہیں کی گئیں ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: (( سأل موسی ربہ :ما أدنی أہل الأرض منزلۃ ؟ قال: ہو رجل یجيء بعد ما أدخل أہل الجنۃ الجنۃ فیقال لہ: ادخل الجنۃ ۔فیقول :أي رب کیف وقد نزل الناس منازلہم وأخذوا أخذاتہم‘‘؟([1]) فیقال لہ: أترضی أن یکون لک مثل ملک ملکٍ من ملوک الدنیا؟ فیقول:رضیت ربِ۔ فیقول: لک ذلک ومثلہ، ومثلہ، ومثلہ، فقال في الخامسۃ: رضیت ربِ، فیقول ھذا لک وعشرۃ أمثالہ، ولک ما اشتھت نفسک ولذت عینک، فیقول: رضیت ربِ ۔۔۔)) الحدیث[2] موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے [1] ’’أخذو أخذاتھم‘‘سے اللہ تعالیٰ انہیں جو عزت و تکریم اور نعمتیں عطا فرمائے گا وہ مراد ہے۔ [2] صحیح مسلم، ۱/۱۷۶، حدیث(۱۸۹) ۔