کتاب: جنت و جہنم کے نظارے - صفحہ 133
اللہ سے کہے گا: اے رب! میں نے اسے بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا، فرماتے ہیں کہ وہ پھر آئے گا اور اسے محسوس ہوگا کہ جنت بھر ی ہوئی ہے، وہ دوبارہ واپس ہوگا اور کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے بھرا ہوا پایا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا، کیونکہ تیرے لئے دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ نعمتیں ہیں ، یا تیرے لئے دنیا کی دس گنا نعمتیں ہیں ، فرماتے ہیں کہ تو وہ شخص کہے گا: (اے اللہ!) کیا تو بادشاہ ہوکر مجھ سے مذاق کرتا ہے، یا مجھ سے ہنسی کرتا ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (اس زور سے) ہنسے کہ آپ کے داڑھ کے دانت ظاہر ہوگئے، فرماتے ہیں کہ اسی کو کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے معمولی درجہ کا جنتی ہوگا۔ عبد اللہ بن مسعود اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث میں درخت والے کا قصہ مذکور ہے جو سب سے معمولی درجہ کا جنتی ہوگا، اس