کتاب: جنت کا راستہ - صفحہ 147
فرمایا:’’اور جھوٹی گواہی نہ دو‘‘۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باربار اسی بات کو دہراتے رہے صحابہ کرام نے عرض کی کہ کاش آپ خاموش ہوجائیں ۔(صحیح بخاری)۔ (10)غیبت کرنا: فرمان الٰہی ہے’’اور تم ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیاتم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھاناچاہتا ہے ؟تم اسکو ناپسند کرتے ہو۔‘‘(سورۂ الحجرات:12)۔یعنی جس طرح تم مردہ بھائی کاگوشت کھانا ناپسند کرتے ہو تو اسی طرح غیبت کو بھی ناپسند کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کیاتم جانتے ہو غیبت کیاہے ؟صحابہ کرام نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا:’’اپنے بھائی کاناپسندیدہ الفاظ میں ذکر کرنا غیبت کہلاتا ہے۔‘‘سوال کیاگیا کہ اگر ہمارے بھائی میں وہ بات موجود ہو جس کا ہم تذکرہ کررہے ہوں تو؟ آپ نے فرمایا:’’یہی تو غیبت ہے۔اگر کوئی عیب نہ ہوا،پھر تم نے یہ بات کہی تو اس کو بہتان کہتے ہیں ۔‘‘(صحیح مسلم) (11) چغل خوری کرنا: فرمان الٰہی ہے’’اور تم ہر قسم کھانے والے ذلیل کی بات نہ مانو،جو عیب جوئی کرنے والا اور چغل خوری کرنے والا ہے۔‘‘(سورۂ قلم:10)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’چغل خور کو قبر میں عذاب دیا جا رہاہے۔‘‘(صحیح بخاری) (12) جاسوسی کرنا: فرمان الٰہی ہے’’اور تم ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو۔‘‘(سورۂ الحجرات:11) (13)پڑوسیوں سے براسلوک کرنا: اللہ تعالیٰ نے پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنے کاحکم دیا ہے۔فرمان الٰہی ہے’’اور اللہ کی عبادت کرو اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔اور قریبی رشتہ داروں ،یتیموں ،مسکینوں ،قریبی ساتھی،پڑوسی،اور پڑوسی رشتہ دار سے اچھا سلوک کرو۔مسافر اور غلام سے بھی حسن سلوک کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ ہرتکبر کرنے والے شیخی خور ے کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(سورۂ نساء:36)۔