کتاب: جنت کا راستہ - صفحہ 145
و خرافات کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ (3)بدشگون یانحوست: کچھ لوگ کسی مہینے یاکسی خاص دن کو منحوس سمجھتے ہوئے بدشگونی لیتے ہیں ۔او رکچھ لوگ کسی خاص تاریخ کو مثلاً 13 تاریخ یاگنتی کے ھندسے کو منحوس سمجھتے ہیں ۔اسکے متعلق فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔’’بدشگونی لینا شرک ہے۔‘‘(مسند احمد) (4) غیر اللہ کی قسم کھانا: عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھاتا ہے تو اس نے شرک کیا۔‘‘ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔’’اے لوگو!بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیاہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ۔جو قسم کھانا چاہتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے۔یاخاموش رہے۔‘‘(بخاری ) (5) ریاکاری کرنا: فرمان الٰہی ہے’’بے شک منافقین اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ(ان منافقوں )کودھوکے کی سزا دیگا۔اور جب یہ نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں ۔لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کاذکر بہت کم کرتے ہیں ۔‘‘(النساء:142) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص اپنے اعمال کولوگوں کے سامنے سنوارنے اور دکھلانے کی کوشش میں رہتا ہے(یعنی ریاکار ہوتاہے)تو اللہ تعالیٰ اسکو اسکے اعمال کابدلہ صرف یہی ریاکاری اور نمائش دیں گے۔‘‘(یعنی آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔بحوالہ صحیح مسلم)۔ صحیح مسلم میں حدیث قدسی کے الفاظ کے مطابق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’بیشک میں مشرکوں کے شرک سے بے پرواہ ہوں ۔جوشخص عمل کو اس نیت سے کرے کہ میرے ساتھ اس میں غیر اللہ کوشریک کرے تو میں اسکے عمل اور شرک دونوں کو پھینک دیتا ہوں ۔‘‘(مسلم)۔ (6)منافقوں اور فاسقوں کی ہم نشینی کرنا: